کتابوں کی اشاعت

دین کی ترویج و اشاعت میں لٹریچر کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ بلکہ دین پر ہی کیا موقوف کسی بھی تحریک، تنظیم، ازم کو چلانے، آگے بڑھانے اور اس کو دنیا بھر میں پھیلانے میں لٹریچر بنیادی اہمیت  کا حامل ہے۔ اور سماج میں عقائد و نظریات کی ترویج و اشاعت کے لیے لٹریچر شائع کرکے عام کرنا دین کی بڑی خدمت ہے، جس کا ثواب جب تک کتاب باقی رہے گی تب تک رہتا ہے۔ بلکہ صحیح معنوں میں جس نے کتاب سے پڑھ کر کچھ سیکھا سمجھا اور عمل کیا، دوسروں کو بھی سکھایا بتلایا۔۔۔ تو یہ ثواب جاریہ کی شکل میضں ہمہشہ جاری رہتا ہے۔

اللہ کریم کے فضل و کرم ہے جس کی توفیق و عطا سے احقر کو اس خدمت کا موقع ملا اور مجھ سے کام لیا۔ بچپن سے مطالعہ کا شوق تھا۔ بچوں کی کہانیاں پڑھتے پڑھتے ناولیں، ڈائجسٹ پڑھتا رہا۔۔۔ پھر اچانک زندگی میں ایسا موڑ آیا کہ میری زندگی میں مذہب کا عمل دخل ہوگیا۔ اس سے قبل چوں کہ گھرانہ مذہبی نہیں تھا تو مجھے بھی دین کی کچھ معلومات نہیں تھی۔ ۔۔ بس اللہ کریم کو جس سے کام لینا ہو، وہ اپنے راستے پر لگا دیتا ہے۔  یہی احقر کے ساتھ ہوا۔ اور میں نے دیکھا کہ اہل سنّت و جماعت جو سچے مذہب کے علم بردار ہیں، لیکن ہمارے پاس لٹریچر کی بہت کمی ہے۔ بلکہ پڑھے لکھے دنیا دار لوگوں کے لیے مناسب اور ہر موضوع پر لٹریچر ہی نہیں ہے۔ اور جو لٹریچر ہے بھی تو اس کی زبان و بیان عالمانہ اور فتاوے جیسا۔۔ تو لوگ اس قسم کے لٹریچر کی طرف کیسے راغب ہوں گے۔ اور جب پڑھیں گے ہی نہیں تو سچے اسلام یعنی اہل سنّت و جماعت کی حقانیت کو کیسے تسلیم کریں گے۔ ۔

پھر میں نے دیکھا کہ ہمارے پڑوسی ملک کا لٹریچر آسان، عام فہم اور عوام کے اذہان کو متاثر کرتا ہوا ہے۔ اور وہاں ہر موضوع پر نئی نئی کتابیں بھی شائع ہوتی رہتی ہیں، جو دنیا دار پڑھے لکھے لوگوں کو متاثر کرتی ہیں۔ تب سے احقر نے یہ ٹھان لیا کہ مجھے بھی اس قسم کا لٹریچر عام کرنا ہے۔ حالانکہ جس وقت یہ خیال ذہن میں آیا میں کالج سے کامرس گریجویشن کی ڈگری لے کر فارغ ہوا تھا۔  گھرانہ بھی کوئی مالدار نہ تھا۔ والد صاحب کا انتقال ہوگیا تھا۔ اور کالج کی تعلیم خود معمولی ملازمت کرکے مکمل کی تھی۔ ایسے میں کتابوں کی ترویج و اشاعت کا کام کتنا مشکل ہے ، سوچیے۔۔۔ پھر احقر کو چندہ مانگنے کا کچھ تجربہ بھی نہیں تھا۔ بلکہ مانگنے میں بھی شرم محسوس ہوتی تھی۔۔۔۔۔ لیکن سچ یہ ہے کہ اللہ کریم جب کسی بندے سے کام لینا چاہتا ہے تو وہی راستہ بنادیتا ہے۔ اور کام ہونے لگتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج برسوں گزر گئے کتابوں کی اشاعت میں۔ اب تک سیکڑوں کتابیں شائع کرکے عام کرچکا۔ اور ان شا اللہ مرتے تدم تک یہ سلسلہ جاری رکھنے کا ارادہ ہے۔ بس اللہ کریم ہمت دے، طاقت دے اور بھرپور وسائل دے۔۔۔ آپ سب لوگ بھی دعا میں یاد رکھنا۔

احقر زبیر قادری

Uncategorized